لیاقت علی عاصم کی کی شاعری
31- ہدف بنایا تھا اغراضِ زندگی نے مجھے مگر بچا لیا اندر کے آدمی نے مجھے 32- بس اتفاق ہی کہیے کہ دَم اُلجھنے لگا خدا بنا ہی دیا تھا مری خودی ...
31- ہدف بنایا تھا اغراضِ زندگی نے مجھے مگر بچا لیا اندر کے آدمی نے مجھے 32- بس اتفاق ہی کہیے کہ دَم اُلجھنے لگا خدا بنا ہی دیا تھا مری خودی ...
بسترِ مرگ پر تھی اِک دُنیا اور تم مر گئے ۔ کمال کیا لیاقت علی عاصم کی غزلیں رفت اور رفتار کی غزلیں ہیں وہ پرانے مضامین کو نئی جہت اور پرانے ...
پرندے چپ فضا سہمی ہوئی ہے یہاں کیسی بلا آئی ہوئی ہے ہوئی جو جات ہونی تھی کسی دن مگر لگتا ہے انہونی ہوئی ہے ابھی خاموش ہی رہنا ہے بہتر خدا س...
برتا ہوا ہے تیرے مزاجِ کرخت کا دل میرا کیوں حریف نہ ہو سنگِ سخت کا تُو نے کہا تو گھر سے نکل آئے ناگہاں صحرا میں یُوں بھی کام نہ تھا ساز و ر...
وہ جو پوچھیں تو مسکرائیں ہم حال رو رو کے کیا سنائیں ہم آس کی ڈور اور ہجر کی رات کیسے کٹتی ہے کیا بتائیں ہم سایہ دیکھیں کہ دھوپ کچھ تو کہو پ...
سب کہاں آئنہ بناتا ہے بعض چہرے خدا بناتا ہے میں نے دیکھی ہیں اُس کی تصویریں عقل سے ماورا بناتا ہے چومیے کیوں نہ اُس کے ہاتھوں کو کیا مٹاتا ...
بہ رسم و راہِ رقیباں گزر رہی ہے حیات گزر رہی ہے مری جاں گزر رہی ہے حیات کہیں فراقِ مسلسل کہیں وصال بحال کہیں کٹھن کہیں آساں گزر رہی ہے حیات...
رات کیا عمر بیت جاتی ہے حبس میں کس کو نیند آتی ہے اُن دریچوں سے میری آنکھوں تک شام کیا کیا دِیے جلاتی ہے کوئی دیوار بھی نہیں آگے کیوں صدا جا...
شہر میں گھر اٹھائے پھرتے ہیں حادثے سر اٹھائے پھرتے ہیں مر گئے جس کے دیکھنے والے ہم وہ محشر اٹھائے پھرتے ہیں تیز کیسے چلیں کہ سینے پر دل سا ...